جو دل کو پہلے میسر تھا کیا ہوا اس کا

فیضی

جو دل کو پہلے میسر تھا کیا ہوا اس کا

فیضی

MORE BYفیضی

    جو دل کو پہلے میسر تھا کیا ہوا اس کا

    جو اس سکون سے بہتر تھا کیا ہوا اس کا

    کہاں لیے چلی جاتی ہے مجھ کو ویرانی

    یہیں کہیں پہ مرا گھر تھا کیا ہوا اس کا

    کچھ ایسے اشک پئے ہیں کہ اب خبر ہی نہیں

    اس آنکھ میں جو سمندر تھا کیا ہوا اس کا

    نظر گئی سو گئی پر کوئی بتائے مجھے

    بڑے کمال کا منظر تھا کیا ہوا اس کا

    یہ سوچنے نہیں دیتا ستم گروں کا ہجوم

    کہ وہ جو پہلا ستمگر تھا کیا ہوا اس کا

    میں صبح خواب سے جاگا تو یہ خیال آیا

    جو رات میرے برابر تھا کیا ہوا اس کا

    میں جس کے ہاتھ لگا ہوں اسے مبارک ہو

    مگر جو میرا مقدر تھا کیا ہوا اس کا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    جو دل کو پہلے میسر تھا کیا ہوا اس کا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY