کوئی رشتہ نہ ہو پھر بھی رشتے بہت

عبد اللہ جاوید

کوئی رشتہ نہ ہو پھر بھی رشتے بہت

عبد اللہ جاوید

MORE BYعبد اللہ جاوید

    کوئی رشتہ نہ ہو پھر بھی رشتے بہت

    آپ اپنے نہیں آپ اپنے بہت

    راز رکھتے نہ ہم اس تعلق کو گر

    لوگ روتے بہت لوگ ہنستے بہت

    دل کی تنہائیوں کا مداوا نہیں

    گھوم کر ہم نے دیکھے ہیں میلے بہت

    اس ہی بنیاد پر کیوں نہ مل جائیں ہم

    آپ تنہا بہت ہم اکیلے بہت

    جب تھی منزل نظر میں تو رستہ تھا ایک

    گم ہوئی ہے جو منزل تو رستے بہت

    خواب تعبیر کے موڑ پر کھو گئے

    یوں کہ تعبیر داں پڑ کے سوئے بہت

    پیڑ کو کاٹنے والے دیکھیں ذرا

    پیڑ پر ہیں بنے آشیانے بہت

    ڈوبنے والے شاید یہ بتلا سکیں

    ڈوبنے کو سہارے کے تنکے بہت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے