کوئی زاری سنی نہیں جاتی کوئی جرم معاف نہیں ہوتا

محمد اظہار الحق

کوئی زاری سنی نہیں جاتی کوئی جرم معاف نہیں ہوتا

محمد اظہار الحق

MORE BY محمد اظہار الحق

    کوئی زاری سنی نہیں جاتی کوئی جرم معاف نہیں ہوتا

    اس دھرتی پر اس چھت کے تلے کوئی تیرے خلاف نہیں ہوتا

    کبھی دمکیں سونے کے ذرے کبھی جھلکے مرغابی کا لہو

    کئی پیاسے کب سے کھڑے ہیں مگر پانی شفاف نہیں ہوتا

    کوئی زلف اڑے تو بکھر جانا کوئی لب دہکیں تو ٹھٹھر جانا

    کیا تزکیہ کرتے ہو دل کا یہ آئنہ صاف نہیں ہوتا

    کئی موسم مجھ پر گزر گئے احرام کے ان دو کپڑوں میں

    کبھی پتھر چوم نہیں سکتا کبھی اذن طواف نہیں ہوتا

    یہاں تاج اس کے سر پر ہوگا جو تڑکے شہر میں داخل ہو

    یہاں سایہ ہما کا نہیں پڑتا یہاں کوہ قاف نہیں ہوتا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites