راستے کے پیچ و خم کیا شے ہیں سوچا ہی نہیں

اجمل اجملی

راستے کے پیچ و خم کیا شے ہیں سوچا ہی نہیں

اجمل اجملی

MORE BYاجمل اجملی

    راستے کے پیچ و خم کیا شے ہیں سوچا ہی نہیں

    ہم سفر پر جب سے نکلے مڑ کے دیکھا ہی نہیں

    دو گھڑی رک کر ٹھہر کر سوچتے منزل کی بات

    راستے میں کوئی ایسا موڑ آیا ہی نہیں

    زندگی کے ساتھ ہم نکلے تھے لے کر کتنے خواب

    زندگی بھی ختم ہے موسم بدلتا ہی نہیں

    اک دیا یادوں کا تھا روشن تھی جس سے بزم شب

    جانے کیا گزری کئی راتوں سے جلتا ہی نہیں

    زندگی بھر پے بہ پے ہم نے کریدے اپنے زخم

    ہم سے چھٹ کر اس پہ کیا گزری یہ سوچا ہی نہیں

    آرزو تھی کھینچتے ہم بھی کوئی عکس حیات

    کیا کریں اب کے لہو آنکھوں سے ٹپکا ہی نہیں

    اس طرح کیسے ہو اجملؔ چارۂ دل کی امید

    درد اپنا آخری حد سے گزرتا ہی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY