یہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کے

اعجاز گل

یہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کے

اعجاز گل

MORE BYاعجاز گل

    یہ گھومتا ہوا آئینہ اپنا ٹھہرا کے

    ذرا دکھا مرا رفتہ تو چرخ پلٹا کے

    ہے کائنات معمہ جدا طریقے کا

    فقط سلجھتا ہے آپس میں گرہیں الجھا کے

    نتیجہ ایک سا نکلا دماغ اور دل کا

    کہ دونوں ہار گئے امتحاں میں دنیا کے

    مسافروں سے رہا ہے وہ راستا آباد

    پلٹ کے آئے نہیں جس سے پیش رو جا کے

    یہ ہجر زاد سمجھتا ہے کم وصال کی بات

    بتا جو رمز و کنایہ ہیں خوب پھیلا کے

    کہ بند رہتا ہے شہر طلب کا دروازہ

    یقین آیا مجھے بار بار جا آ کے

    خفیف ہو کے میں چہرے کو پھیر لیتا ہوں

    اگر گزرتا ہے تجھ آشنا سا کترا کے

    جواب میرا غلط تھا سوال اس کا درست

    کھلا یہ مجھ پہ کسی ناسمجھ کو سمجھا کے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY