بہار عشق

مرزا شوقؔ  لکھنوی

نامعلوم تنظیم
1871 | مزید

مصنف: تعارف

مرزا شوقؔ  لکھنوی

مرزا شوقؔ  لکھنوی

اردو کے مشہور شاعر اور مثنوی نگار نواب مرزا شوق لکھنوی 6 جنوری 1773ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام تصدق حسین خان تھا۔ ان کے والد کا نام آغا علی خان تھا۔ ان کا خان دان حکیموں کا مشہور خاندان تھا اور ان کے والد، چچا، دادا وغیرہ مشہور طبیب تھے۔ خود نواب مرزا نے بھی پڑھ کر یہی پیشہ اختیار کیا اور لکھنؤ کے صاحب حیثیت لوگوں میں شمار کئے جاتے تھے۔

انہوں نے ایسے عہد میں آنکھیں کھولی تھیں کہ جب لکھنؤ میں ہر طرف شعر و سخن کا بول بالا تھا، اس ماحول نے انہیں بھی متاثر کیا اور دیگر شعرا کی طرح غزلوں کے ذریعہ اپنی شعری سفر کا آغاز کیا اور خواجہ آتش ؔ کو اپنا استاذ بنایا- شوخی، عیش پسندی اور مزاج میں رنگینی بچپن سے ہی تھی اور اس ماحول میں ان صفات کا پیدا ہونا بھی ناگزیر تھا۔

ان کا سرمایہء حیات تین مثنویاں فریب عشق، بہار عشق اور زہر عشق ہیں۔ بعض لوگوں نے لذّت عشق اور خنجر عشق کو بھی ان کے نام سے منسوب کیا ہے لیکن عطا اللہ پالوی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ انہونے صرف تین ہی مثنوی لکھی ہے۔ دیوان غزلیات اور مجموعہ واسوخت بھی ان کی تصانیف ہیں۔ اخلاقی نقطۂ نظر سے ان کی مثنویاں قابل گرفت سمجھی گئی ہیں۔ واجد علی شاہ کے دربار سے وابستہ ہوئے جہاں انہیں پانچ سو روپیے وظیفہ ملتا تھا- 30 جون 1871ء کو لکھنؤ میں ہی ان کا انتقال ہوا۔ انہیں لکھنؤ میں سٹی سٹیشن، ریلوے لائن کے پاس والے قبرستان میں دفن کیا گیا جہاں میر تقی میر، سودا، میر حسن، ناسخ اور مصحفی کو دفنایا گیا ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب