Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شناخت: ممتاز مترجم، افسانہ نگار، ڈرامہ نویس، بچوں کے ادیب اور عالمی ادب کو اردو قالب عطا کرنے والے ادیب

مظہر الحق علوی 8 ستمبر 1926ء کو احمد آباد، گجرات میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق ایک ممتاز علمی، صوفی اور ادبی خانوادے سے تھا، جس کا سلسلہ صوفی بزرگ وجیہ الدین علوی اور اردو کے کلاسیکی شاعر ولی دکنی سے ملتا ہے۔ ان کے دادا شاعر تھے اور ’’مسکینؔ‘‘ تخلص کرتے تھے، جبکہ والد ’’جمیلؔ‘‘ کے نام سے شعر کہتے تھے۔ معروف نقاد وارث علوی اور  شاعر محمد علوی بھی اسی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔

مظہر الحق علوی احمد آباد ہی میں مقیم رہے، جہاں انہوں نے اسسٹنٹ لائبریرین کی حیثیت سے ملازمت کی۔ اسی دوران مطالعے، لکھنے پڑھنے اور علمی جستجو نے ان کے اندر تخلیقی صلاحیتوں کو جلا بخشی اور وہ مستقل طور پر ادب کی طرف متوجہ ہوگئے۔ وسیع مطالعے اور عالمی ادب سے گہری وابستگی نے انہیں اردو کے اہم مترجمین میں شامل کردیا۔

انہوں نے گزشتہ سات دہائیوں تک مسلسل ادبی خدمات انجام دیں اور اردو زبان میں ترجمہ نگاری کو ایک نئے وقار سے ہمکنار کیا۔ انگریزی، گجراتی اور عالمی ادب کے شاہکار ناولوں کو اردو قالب میں ڈھالنے میں انہیں غیر معمولی مہارت حاصل تھی۔ ان کے تراجم میں محض لفظی منتقلی نہیں بلکہ تخلیقی چاشنی، فنی روانی اور اصل متن کی فضا پوری شدت کے ساتھ محسوس ہوتی ہے۔

انہوں نے عالمی ادب کے متعدد اہم ناول اردو میں منتقل کیے۔ فرانسیسی ادیب Alexandre Dumas کے شہرۂ آفاق ناول The Count of Monte Cristo کا اردو ترجمہ ’’ظلِ ہما‘‘ کے نام سے کیا، جسے بے حد مقبولیت حاصل ہوئی۔ اسی طرح Matthew Gregory Lewis کے ناول The Monk کا ترجمہ ’’خانقاہ‘‘ کے عنوان سے پیش کیا۔ Bram Stoker کے Dracula، Mary Shelley کے Frankenstein اور H. Rider Haggard کے مہماتی ناولوں کے اردو تراجم بھی ان کی ادبی خدمات کا اہم حصہ ہیں۔ ’’روح کی پکار‘‘، ’’خونخوار‘‘، ’’فرعون کی آپ بیتی‘‘، ’’آدم خور قبیلہ‘‘، ’’فرعون و کلیم‘‘، ’’بھونرا‘‘ اور ’’الیشہ‘‘ جیسے تراجم اپنے زمانے میں بے حد مقبول ہوئے۔

ان کی اہم تصانیف میں انگریزی ناولوں کے تراجم، طبع زاد افسانے، ڈرامے اور بچوں کی کہانیاں شامل ہیں۔ بچوں کے معروف رسالے ’’کلیاں‘‘ میں ان کی کہانیاں باقاعدگی سے شائع ہوتی رہیں، جنہیں بچے شوق سے پڑھتے تھے۔ ان کی تحریروں میں دلچسپی، تجسس، اخلاقی تربیت اور زبان کی شگفتگی کا حسین امتزاج ملتا ہے۔

مظہر الحق علوی کی ایک سو سے زائد تصانیف شائع ہوئیں، جن میں تراجم، افسانے، ڈرامے اور بچوں کی کہانیاں شامل ہیں۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2012ء میں ’’بہادر شاہ ظفر ایوارڈ‘‘ سے نوازا گیا۔

وفات: مظہر الحق علوی کا انتقال 17 دسمبر 2013ء کو احمد آباد میں ہوا۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے