Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

کتاب: تعارف

زیر مطالعہ جمیل الدین عالیٰ کے دوہوں پر مشتمل مجموعہ بعنوان " دوہے" ہے۔ جس میں شاعرکی شخصیت کا عکس نمایاں ہے۔شاعرکے دوہوں میں مضامین کا تنوع صاف نظر آتا ہے۔زندگی کے مختلف مسائل اور متفرق واقعات و حالات کو شاعر نے دوہوں کے پیرائیہ میں ڈھالا ہے۔ان دوہوں میں شاعر کے احساسات و جذبات کے متنوع رنگ واضح ہیں۔ یہ دوہے ان کے کئی مجموعوں سے جمع کئے ہیں۔ کچھ دوہے ان کے پہلے مجموعہ "غزلیں، دوہے، گیت" سے ہیں۔ کچھ دوہے ان کے دوسرے مجموعے "لاحاصل" سے ہیں۔ کچھ "اے مرے دشت سخن" سے۔ اس طرح کچھ اور دیگر مواقع سے کہے گئے دوہے بھی اس میں شامل ہیں۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

مرزا جمیل الدین احمد نام اور عالی تخلص ہے۔یکم جنوری۱۹۲۶ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ آبائی وطن لوہارو ہے۔تقسیم ہند کے بعد آپ کراچی چلے آئے اور پاکستان گورنمنٹ کے ایک مرکزی دفتر میں ملازم ہوگئے۔۱۹۵۱ء میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد انکم ٹیکس آفیسر مقرر ہوئے۔۱۹۷۶ء میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کیا۔ پاکستان رائٹرز گلڈ قائم کرنے میں آپ کا بڑا ہاتھ ہے۔ان کا پہلا تخلص مائل تھا۔ غزل کے علاوہ انھوں نے دوہے اور گیت بھی لکھے ہیں۔ معتمد اعزازی انجمن ترقی اردو پاکستان ہیں۔ عالی صاحب کئی ایوارڈ سے نوازے گئے۔ صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی(شعبہ ادب)۱۹۸۹ء اور اکادمی ادبیات پاکستان کا ’’کمال فن ایوارڈ‘‘۲۰۰۶ء میں ملا۔ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں : ’غزلیں ، دوہے،گیت‘، ’لاحاصل‘، ’جیوے جیوے پاکستان‘(قومی نغمے)، ’دنیا میرے آگے‘، ’تماشا مرے آگے‘،(سفرنامے)، ’نقار خانے میں‘(کالموں کا مجموعہ)، ’اے مرے دشت سخن‘، ’اک گوشۂ بساط‘(شعری مجموعے)، ’حرفے چند‘ (کتابوں پر دیپاچے، تین جلدیں)، ’انسان ‘(طویل نظم)۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:179

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے