aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
پیش نظر کتاب اب دنیائے آرزو مرزا ادیب کی تصنیف ہے جس میں انہوں نے ان تعلیم یافتہ نوجوانوں کا نفسیاتی جائزہ لیا ہے جو تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی معقول روزگار سے محروم ہیں ۔ کتاب میں انہوں نے "سلیم" "شہاب" " نائلہ دل" کے کرداروں کے ذریعے ان نوجوانوں کی ذہنی کیفیات کو پیش کیا ہے جن کے پاس تعلیم کے باوجود بھی روزگار نہیں ہے ۔مرزا ادیب نے ان نوجوانوں کی آہ و فغاں کو آنسوؤں کی زبانی اپنی ڈائری میں پیش کیا ہے ،اور واقعات کو مبادت فن کے ساتھ افسانوی لباس پہنایا ہے۔لائق مصنف نے عہد حاضر کے بیکار تعلیم یافتہ طبقے کی نفسیات کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔
شناخت: ڈرامہ نگار، افسانہ نگار، ایڈیٹر، بچوں کے مقبول ادیب
میرزا ادیب (اصل نام: دلاور علی) 14 اپریل 1914ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے تعلیم لاہور ہی میں حاصل کی اور اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا۔ زمانہ طالب علمی سے ہی ادبی ذوق کے مالک تھے اور شاعری سے اپنے سفر کا آغاز کیا، جہاں 'عاصی' اور پھر 'برق' تخلص رکھا، مگر شہرت 'میرزا ادیب' کے نام سے ملی۔ انہوں نے محض 21 برس کی عمر میں 'ادبِ لطیف' جیسے معتبر جریدے کی ادارت سنبھالی اور اسے عروج تک پہنچایا۔ اس کے علاوہ وہ ریڈیو پاکستان لاہور سے بھی طویل عرصہ وابستہ رہے۔
میرزا ادیب کی ادبی شناخت کی سب سے مضبوط بنیاد ان کے یک بابی ڈرامے اور افسانے ہیں۔ انہوں نے انسانی ایثار، محبت اور حسنِ سلوک کو اپنی تحریروں کا محور بنایا۔ ان کی مشہور تصانیف میں 'آنسو اور ستارے'، 'لہو اور قالین'، 'فصیلِ شب'، 'شیشے کی دیوار'، 'مٹی کا دیا' (خودنوشت سوانح) اور 'صحرانورد کے خطوط' شامل ہیں۔ انہوں نے بچوں کے لیے بھی گراں قدر ادب تخلیق کیا، جس میں 'نانی جان کی عینک'، 'تیس مار خاں' اور 'قوم کی بیٹی' نمایاں ہیں۔
انہوں نے کالم نگاری، تنقید اور تراجم کے میدان میں بھی کافی کام کیا۔ 'نوائے وقت' میں ان کے ادبی کالم ذوق و شوق سے پڑھے جاتے تھے۔
وفات: 31 جولائی 1999ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔