aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
فصیل لب رشید قیصرانی کا پہلا مجموعہ کلام ہے جو غزلوں پر مشتمل ہے۔ اس میں جدید اردو غزل کی ایک منفرد آواز پیش کی گئی ہے، جو زندگی کے حقائق کا اثبات کرتی ہے۔
13؍دسمبر 1930ء کو تونسہ شریف کے علاقے کوٹ قیصرانی میں پیدا ھوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم کوٹ قیصرانی میں ھی حاصل کی۔ آپ نے پاکستان کی فضائیہ میں بھی خدمات انجام دیں۔ اسی کے عشرے کے اوائل میں اپنے اسلام آباد کے قیام میں راولپنڈی اسلام آباد کے بڑے بڑے مشاعروں میں شرکت کی جہاں انکے ہمعصروں میں جمیل ملک، احمد شمیم، احمد ظفر، سید فیضی اور ایسے ہی مستند شعر گو شامل تھے۔ رشید قیصرانی سات شعری مجموعوں کے خالق تھے تاہم اس ادبی تجارت اور بے بصر عہد کی چیرہ دستیوں کی وجہ سے بہت عرصہ گوشہ نشینی کا شکار رھے۔