aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
شناخت: عظیم مفسر، فقیہ، محدث، صوفی بزرگ اور ’’تفسیرِ مظہری‘‘ کے مصنف
قاضی ثناء اللہ پانی پتی 1143ھ مطابق 1730ء/1731ء میں پانی پت کے محلہ قاضیاں میں پیدا ہوئے۔ آپ برصغیر کے اُن جلیل القدر علما میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف اور علمِ کلام میں غیر معمولی مقام حاصل کیا۔ آپ کے والد قاضی محمد حبیب اللہ عثمانی ایک بزرگ عالمِ دین اور صوفی تھے۔ آپ کا سلسلۂ نسب شیخ جلال الدین کبیر الاولیاء سے جا ملتا ہے۔ والد کے انتقال کے بعد آپ کی پرورش اور تعلیم و تربیت آپ کے بڑے بھائی قاضی محمد فضل اللہ نے کی۔
قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے کم عمری ہی میں قرآنِ کریم حفظ کرلیا اور بعد ازاں علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تحصیل میں مشغول ہوگئے۔ اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے دہلی کا سفر کیا، جہاں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی سے حدیث اور دیگر علوم حاصل کیے۔ کم عمری ہی میں علومِ دینیہ کی تکمیل کے بعد وطن واپس آئے اور درس و تدریس، افتا، تصنیف و تالیف اور اصلاحِ خلق میں مشغول ہوگئے۔
آپ علمی اور روحانی دونوں اعتبار سے بلند مقام رکھتے تھے۔ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی آپ کو ’’بیہقیِ وقت‘‘ کہا کرتے تھے، جبکہ آپ کے مرشد میرزا مظہر جانِ جاناں نے آپ کو ’’علم الہدیٰ‘‘ کا لقب عطا کیا۔ آپ سلسلۂ نقشبندیہ سے وابستہ تھے۔ ابتدا میں حافظ محمد عابد سنامی سے بیعت کی، بعد ازاں میرزا مظہر جانِ جاناں سے روحانی فیض حاصل کیا۔
قاضی ثناء اللہ پانی پتی فقہ و اصول میں درجۂ اجتہاد تک پہنچے ہوئے تھے۔ تفسیر، حدیث، تصوف اور علمِ کلام میں ان کی گہری بصیرت مسلم تھی۔ آپ نے تیس سے زائد کتابیں تصنیف کیں، جن میں سب سے زیادہ شہرت ’’تفسیرِ مظہری‘‘ کو حاصل ہوئی، جو قرآنِ کریم کی ایک جامع، علمی اور صوفیانہ تفسیر سمجھی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ ’’ارشاد الطالبین‘‘، ’’جواہر القرآن‘‘، ’’حقیقت الاسلام‘‘، ’’شہابِ ثاقب‘‘، ’’تذکرۃ الموتیٰ والقبور‘‘، ’’السیف المسلول‘‘، ’’رسالہ در مسئلہ سماع و وحدت الوجود‘‘ اور ’’رسالہ حرمتِ متعہ‘‘ جیسی تصانیف بھی اہم ہیں۔
قاضی ثناء اللہ پانی پتی نے زندگی بھر علم و عرفان کی خدمت کی اور پانی پت میں منصبِ قضا پر فائز رہتے ہوئے عدل و دیانت کی مثال قائم کی۔
وفات: قاضی ثناء اللہ پانی پتی کا انتقال یکم رجب 1225ھ مطابق 2 اگست 1810ء کو ہوا۔