مصنف : شاہ نصیر

ناشر : مجلس ترقی ادب، لاہور, احمد ندیم قاسمی

سن اشاعت : 1977

زبان : Urdu

موضوعات : شاعری

ذیلی زمرہ جات : کلیات

صفحات : 563

معاون : انجمن ترقی اردو (ہند)، دہلی

کلیات شاہ نصیر

کتاب: تعارف

شاہ نصیر کا شمار اپنے عہد کے ممتاز شعرا اور دہلی کے نامور اساتذہ میں ہوتا ہے۔ان کا تعلق ایک خانوادہ تصوف سے ہونے کے باوجود شعر وسخن سے کافی زیادہ دلچسپی تھی۔ان کی شاعری کا زمانہ اردو شعر ادب کی تاریخ کے اس دور سے تعلق رکھتا ہے جس وقت معنی سے زیادہ صورت اور معیار سے زیادہ مقدار کی اہمیت پر زیادہ زور دیا جا رہا تھا۔دہلی کے علاوہ بعض دوسرے شہروں میں بھی مشاعرے عام ہوچکے تھے۔مقامی اور غیر مقامی طور پر گروہ بندیاں بنتی جارہی تھیں۔بحور اوزان سے واقفیت اور الفاظ و محاوارت پر قدرت کو کمال استادی اور معیار شاعری سمجھا جانے لگا تھا ۔شاہ نصیر کے شعور و شعر کا مطالعہ ان کے عہد کے اسی ادبی میلان اورشاعرانہ افتاد مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جا نا چاہئے۔ "کلیات شاہ نصیر" ان کے تین قلمی نسخوں ،دو قلمی انتخابات اور دو مطبوعہ نسخوں کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ جس کو ایک طویل مبسوط مقدمہ کے ساتھ تنویر احمد علوی نے چار جلدوں میں ترتیب دیا ہے۔ پہلی، دوسری اور تیسری جلد میں ردیف وار غزلیں ہیں جبکہ چوتھی جلد میں قصائد اور قطعات و رباعیات ہیں۔ ابتد امیں شاہ نصیر کی سوانح حیات اور آخر میں معلوماتی حواشی بھی شامل ہیں۔ زیر نظر جلد دوم ہے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

سنگلاخ زمینوں اور مشکل ردیف و قوافی کی جو ابتدا ء سوداؔ کے زمانے سے شروع ہوچکی تھی وہ انشاؔ و مصحفیؔ سے گزر کرتا شاہ نصیرؔ کے کلام میں انتہا تک پہونچ گئی اور حقیقت یہ ہے کہ پرانے معیار پر اگر ان کا کلام جانچا جائے تو انہیں سرتاج الشعراء کہا جاسکتا ہے ۔ طبیعت کی روانی کثرت مشق اور زور و وجوش نے ان کے کلام کو گرما گرم بنا دیا تھا ۔ پڑھنے کا انداز بھی نرالاتھا آواز الگ پاٹ دار ، چنانچہ مشاعروں میں دھوم دھام پیدا کردیتے تھے ۔ مصحفیؔ نے ان کے کلام کا زور شور سنا تھا لیکن لکھنوی شعراء ان کی استادی کے زعم میں شریک تھے۔(الخ) آزادؔ کی رائے میں ان کے کلام کے متعلق زیادہ صحیح ہے لکھتے ہیں : ان کے کلام کو اچھی طرح دیکھا گیا ۔ زبان شکوہ الفاظ اور چستی تراکیب میں سوداؔ کی زبان تھی اور گرمی و لذت حذا داد تھی انہیں اپنی نئی تشبیہوں اور استعاروں کا دعوی تھا اور یہ دعوی بجا تھا نئی نئی زمینیں نہایت برجستہ اور پسندیدہ نکالنے تھے مگر ایسی سنگلاخ ہوتی تھیں کہ بڑے بڑے شہ سوار تقدم نہ مارتے تھے ۔ تشبیہہ و استعار ے کو لیا ہے اور نہایت آسانی سے برتا ہے جسے اکثر زبست انشاء پرداز نا پسند کرکے کم استعدادی کا نتیجہ نکالتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تشبیہہ یا استعارہ شاعرانہ نہیں پھبتی ہے مگر یہ ان کی غلطی ہے اگر وہ ایسا نہ کہتے تو کلام سریع الفہم کیوں کر ہوتا اورہ ہم ایسی سنگلاخ زمینوں میں گرم گرم شعر کیوں کر سنتے۔ دہلی میں جو بوڑھے استاد مثلاً فراق، قاسم، عظیم بیگ وغیرہ رہ گئے تھے ان کے دعوؤں کو سنتے لیکن چپ نہ کرسکتے تھے ۔ جن سنگلاخ زمینوں میں یہ دو غزلے کہتے دوسروں کو غزل پوری کرنا مشکل ہوتی ۔ غرض کہ نصیرؔ ایک زبردست شاعر تھے ۔ وہ قدیم الفاظ جو انشاؔ و مصحفیؔ تک باقی تھے مثلاً ٹک وا چھڑے تس پر وغیرہ انہوں نے ترک کردیئے لیکن آئے ہے ، جائے ہے وغیرہ افعال کو برقرار رکھا ہے ۔ مشکل ردیف قافیے میں بغیر تشبیہہ و استعارے کے بات نہیں بنتی ، نصیرؔ کا تخیئل و تصور اس میں منجا ہوا تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہایت آسانی سے سنگلاخ زمینوں میں کامیاب رہتے ہیں ۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

قارئین کی پسند

اگر آپ دوسرے قارئین کی دلچسپیوں میں تجسس رکھتے ہیں، تو ریختہ کے قارئین کی پسندیدہ

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید