aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
شاہ نصیر کا شمار اپنے عہد کے ممتاز شعرا اور دہلی کے نامور اساتذہ میں ہوتا ہے۔ان کا تعلق ایک خانوادہ تصوف سے ہونے کے باوجود شعر وسخن سے کافی زیادہ دلچسپی تھی۔ان کی شاعری کا زمانہ اردو شعر ادب کی تاریخ کے اس دور سے تعلق رکھتا ہے جس وقت معنی سے زیادہ صورت اور معیار سے زیادہ مقدار کی اہمیت پر زیادہ زور دیا جا رہا تھا۔دہلی کے علاوہ بعض دوسرے شہروں میں بھی مشاعرے عام ہوچکے تھے۔مقامی اور غیر مقامی طور پر گروہ بندیاں بنتی جارہی تھیں۔بحور اوزان سے واقفیت اور الفاظ و محاوارت پر قدرت کو کمال استادی اور معیار شاعری سمجھا جانے لگا تھا ۔شاہ نصیر کے شعور و شعر کا مطالعہ ان کے عہد کے اسی ادبی میلان اورشاعرانہ افتاد مزاج کو سامنے رکھتے ہوئے کیا جا نا چاہئے۔ "کلیات شاہ نصیر" ان کے تین قلمی نسخوں ،دو قلمی انتخابات اور دو مطبوعہ نسخوں کی مدد سے تیار کی گئی ہے۔ جس کو ایک طویل مبسوط مقدمہ کے ساتھ تنویر احمد علوی نے چار جلدوں میں ترتیب دیا ہے۔ پہلی، دوسری اور تیسری جلد میں ردیف وار غزلیں ہیں جبکہ چوتھی جلد میں قصائد اور قطعات و رباعیات ہیں۔ ابتد امیں شاہ نصیر کی سوانح حیات اور آخر میں معلوماتی حواشی بھی شامل ہیں۔ زیر نظر جلد دوم ہے۔
محمد نصیرالدین، المعروف میاں کلو، جو عام طور پر شاہ نصیر کے نام سے مشہور ہیں، اپنے عہد کے ممتاز صوفی بزرگ تھے۔ ان کے والد بھی ایک بزرگِ دین تھے اور اپنے معاشرے میں نہایت احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔ شاہ نصیر نے باقاعدہ اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کی، غالباً اس کی وجہ علمی تعلیم میں ان کی کم دل چسپی تھی۔ 1768ء میں وہ اپنے والد کے بعد ان کی درگاہ کے سجادہ نشین ہوئے۔
شاہ نصیر کو کم عمری ہی سے شاعری کا شوق تھا۔ انہوں نے شاہ محمد مائل سے اصلاح لی، جو قائمؔ چاندپوری کے شاگرد تھے، اور خواجہ میر دردؔ سے بھی غیر رسمی طور پر وابستگی رہی۔ شاہ نصیر نہایت باصلاحیت شاعر تھے اور دہلی کی شعری زبان و محاورے پر انہیں غیر معمولی عبور حاصل تھا۔ روایت ہے کہ وہ مشاعروں میں اپنے ہم عصروں کو فی البدیہہ شعر کہنے کا چیلنج دیتے اور اس فن میں اپنی برتری کا دعویٰ کرتے تھے۔ بعد کے برسوں میں شاہ نصیر ایک مقبول شاعر کی حیثیت سے شہرت حاصل کر گئے اور شاہی خاندان کے افراد سمیت دیگر اہلِ ذوق کے استاد و رہنما مقرر ہوئے۔ انہوں نے مختلف شہروں، خصوصاً میرٹھ اور لکھنؤ کے سفر کیے، جہاں ان کی ملاقات جرأتؔ، مصحفیؔ، آتشؔ اور ناسخؔ جیسے نامور شعرا سے ہوئی۔
شاہ نصیر کو فنِ شاعری پر کامل دسترس حاصل تھی۔ پیچیدہ بحور اور دشوار ردیفوں میں ان کی شاعری ان کی بے مثال فنی مہارت کی روشن دلیل ہے۔ انہیں اپنے زمانے کا رجحان ساز شاعر بھی کہا جاتا ہے۔