aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
شناخت: ممتاز مؤرخ، تذکرہ نویس، ادیب، شاعر اور لغت نویس
مفتی غلام سرور لاہوری 1244ھ مطابق 1837ء میں لاہور کے محلہ کوٹلی مفتیاں میں ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد مفتی غلام محمد سے حاصل کی، جن سے طب بھی پڑھی۔ سلسلۂ سہروردیہ میں اپنے والد سے بیعت ہوئے اور بعد ازاں مولانا غلام اللہ لاہوری سے تفسیر، حدیث، فقہ، عربی ادب، صرف و نحو، معانی، منطق اور تاریخ جیسے علوم میں مہارت حاصل کی۔ اپنے زمانے میں وہ بے مثل عالم، ادیب، شاعر، مؤرخ، تذکرہ نویس اور ماہرِ لغت کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔
زندگی کے ابتدائی دور میں کچھ عرصہ ملازمت کی۔ سردار بھگوان سنگھ کی جاگیر کے مہتمم رہے، پھر رائے بہادر کنہیا لال (جو ان کے شاگرد تھے) کے توسط سے محکمہ میں ملازمت ملی، مگر جلد ہی اسے ترک کر کے تصنیف و تالیف کو اپنا میدان بنا لیا۔
آپ کی طبیعت میں غیر معمولی استغنا اور خودداری تھی۔ حکامِ وقت سے تعلقات بنانے سے گریز کرتے اور اپنی علمی آزادی کو ہر حال میں مقدم رکھتے تھے۔ سرکاری اعزازات اور پیشکشوں کو ٹھکرا کر انہوں نے آزاد علمی روایت کو برقرار رکھا۔
1884ء میں سر سید احمد خان سے ملاقات کے دوران انہوں نے ان کے اصلاحی مشن میں شامل ہونے کی پیشکش نہایت وقار کے ساتھ مسترد کر دی اور تصنیف و تالیف کو ہی اپنا اصل میدان قرار دیا۔
مفتی غلام سرور لاہوری کی علمی خدمات ہمہ جہت ہیں۔ انہوں نے تاریخ، تذکرہ نویسی، ادب، مذہب اور خاص طور پر لغت نویسی (Lexicography) کے میدان میں نمایاں کام کیا۔
ان کی لغات جیسے ’زبدۃ اللغات‘ (لغاتِ سروری) اور ’جامع اللغات‘ اردو زبان کی تدوین و ترتیب میں اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہیں اور اس سے ان کی لسانی بصیرت کا اندازہ ہوتا ہے۔
اسی طرح ان کی تصانیف 'تاریخ مخزن پنجاب' اور 'حدیقۃ الاولیاء' تاریخ و تذکرہ نگاری میں ان کا بلند مقام ظاہر کرتی ہیں، جبکہ دیگر کتب میں مذہبی، اخلاقی اور ادبی موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔
وفات: انتقال 14 اگست 1890ء کو سفرِ حج کے دوران مدینہ منورہ کے راستے میں مقامِ بدر کے قریب 'بئرِ بالا حسانی' میں ہوا اور وہیں تدفین عمل میں آئی۔