aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
امر ابدآبادی (پورا نام رنبیر سنگھ امر) کی پیدائش 4 جون 1910 کو ایک شائستہ اور محبِ وطن موہیال (دت) گھرانے میں ہوئی۔ ان کے والد مہتا نرنجن داس دت کو بھی لکھنے پڑھنے کا شوق تھا۔ آریہ ہائی اسکول، لدھیانہ میں نویں جماعت کے طالبِ علم ہونے کے زمانے ہی سے امر نے اردو اخبارات میں لکھنا شروع کر دیا تھا۔ ان کا پہلا مضمون پنجاب کیسری لالہ لاجپت رائے کی شہادت پر ان ہی کے اخبار ’’وندے ماترم‘‘ میں شائع ہوا۔
میٹرک پاس کرنے کے بعد 1930 میں، محض بیس برس کی عمر میں، وہ اُس دور کے معروف ہفتہ وار ’’گرو گھنٹال‘‘ کے نائب مدیر مقرر ہوئے، جو لاہور سے شائع ہوتا تھا۔ بعد ازاں وہ اسی ہفتہ وار کے مدیر بنے اور طویل عرصے تک اس سے وابستہ رہے۔ اس دوران ان کی متعدد کتابیں منظرِ عام پر آئیں، جن میں ’’رادھا کے گیت‘‘ (گیتوں کا مجموعہ)، ’’آنسوؤں کی لڑی‘‘ (کہانیوں کا مجموعہ)، ’’شاہنامۂ ہنود‘‘ (رامائن پر طویل تعریفی نظم) اور ’’پھلواڑی‘‘ (بچوں کی کہانیاں) شامل ہیں۔
امر 1942 تک ہفتہ وار ’’گرو گھنٹال‘‘ سے وابستہ رہے۔ اس کے بعد انہوں نے کراچی سے اپنا ہفتہ وار ’’اتفاق‘‘ جاری کیا، جس نے ہندو مسلم ہم آہنگی کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ تقسیمِ ہند کے بعد وہ پٹیالہ واپس آ گئے اور دوبارہ ’’گرو گھنٹال‘‘ کی اشاعت شروع کی۔ 1958 میں حکومتِ پنجاب نے انہیں اردو رسالہ ’’پاسبان‘‘ کا مدیرِ اعلیٰ مقرر کیا۔ ’’پاسبان‘‘ میں قیام کے دوران انہوں نے متعدد اہم ادبی خدمات انجام دیں۔ چینی اور پاکستانی حملوں کے زمانے میں لکھی گئی ان کی نظمیں اور غزلیں خاص طور پر مقبول ہوئیں، جنہوں نے اہلِ وطن، بالخصوص پنجاب کے باشندوں میں حب الوطنی کا جذبہ بیدار کیا۔
1966 میں ان کا تیسرا افسانوی مجموعہ ’’سنہرے سپنے‘‘ شائع ہوا، جسے حکومتِ پنجاب نے ایوارڈ سے نوازا۔ اردو زبان کی ترویج و ترقی اور ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں ’’سرٹیفکیٹ آف میرٹ‘‘ سے بھی سرفراز کیا گیا۔