aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
میرزا ادیب اپنے ڈراموں میں ایک سچے فنکار کی طرح زندگی کا بڑا گہرا اور پر خلوص مشاہدہ و مطالعہ کرتے ہیں۔ وہ انسانی اذیتوں کے اسباب و علل معلوم کرنے کی سعی کرتے ہیں اور پھر اپنے مشاہدات کو حیرت انگیز توازن و اعتدال کے ساتھ ڈرامائی پیکر میں ڈھال دیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کےڈرامے نہ تو پر جوش خطابت اور صحافت کےنمونے ہیں،نہ ہی تجریدی آرٹ کے تمثیلی مرقع۔ان کے ڈراموں میں معاشرتی حیثیت،نفسیاتی ردعمل کے مظاہر، نفسیاتی شعور، عورت کی نفسیات اور انسانی نفسیات کی رمز کشائی کا عمل اپنے زوروں پر دکھائی دیتا ہے۔وہ اِنسانی ذات کے پاتال میں اُتر کر اُس کی باطنی کش مکش اور تصادم کو دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں زیر نظر کتاب مرزا ادیب کا ’’آدم جی انعام یافتہ‘‘ آٹھ ڈراموں کا مجموعہ ہے جس میں گود، رحیلہ، ہمہ آفتاب است، کھڑکی، دستک، روشنی والا، شہید، دالان جیسے ڈرامے شامل ہیں۔ڈراما "کھڑکی" میں پچھتاوے کے نفسیاتی اثرات کو موضوع بنایا گیا ہے، اور"دستک"ضمیر کی آواز کا عمدہ اظہاریہ ہے۔
شناخت: ڈرامہ نگار، افسانہ نگار، ایڈیٹر، بچوں کے مقبول ادیب
میرزا ادیب (اصل نام: دلاور علی) 14 اپریل 1914ء کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے تعلیم لاہور ہی میں حاصل کی اور اسلامیہ کالج لاہور سے بی اے کیا۔ زمانہ طالب علمی سے ہی ادبی ذوق کے مالک تھے اور شاعری سے اپنے سفر کا آغاز کیا، جہاں 'عاصی' اور پھر 'برق' تخلص رکھا، مگر شہرت 'میرزا ادیب' کے نام سے ملی۔ انہوں نے محض 21 برس کی عمر میں 'ادبِ لطیف' جیسے معتبر جریدے کی ادارت سنبھالی اور اسے عروج تک پہنچایا۔ اس کے علاوہ وہ ریڈیو پاکستان لاہور سے بھی طویل عرصہ وابستہ رہے۔
میرزا ادیب کی ادبی شناخت کی سب سے مضبوط بنیاد ان کے یک بابی ڈرامے اور افسانے ہیں۔ انہوں نے انسانی ایثار، محبت اور حسنِ سلوک کو اپنی تحریروں کا محور بنایا۔ ان کی مشہور تصانیف میں 'آنسو اور ستارے'، 'لہو اور قالین'، 'فصیلِ شب'، 'شیشے کی دیوار'، 'مٹی کا دیا' (خودنوشت سوانح) اور 'صحرانورد کے خطوط' شامل ہیں۔ انہوں نے بچوں کے لیے بھی گراں قدر ادب تخلیق کیا، جس میں 'نانی جان کی عینک'، 'تیس مار خاں' اور 'قوم کی بیٹی' نمایاں ہیں۔
انہوں نے کالم نگاری، تنقید اور تراجم کے میدان میں بھی کافی کام کیا۔ 'نوائے وقت' میں ان کے ادبی کالم ذوق و شوق سے پڑھے جاتے تھے۔
وفات: 31 جولائی 1999ء کو لاہور میں انتقال ہوا۔