aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
شناخت: عظیم اسلامی مفکر، عالمِ دین، مفسرِ قرآن، مصنف اور پُرامن داعی
مولانا وحیدالدین خاں (ولادت: یکم جنوری 1925ء، بڈھریا، ضلع اعظم گڑھ، اتر پردیش) برصغیر کے نامور اسلامی مفکرین میں شمار ہوتے ہیں، جنھوں نے اسلام کے پُرامن دعوتی پیغام کو عصری اسلوب میں پیش کیا۔ ان کا تعلق ایک معزز زمیندار گھرانے سے تھا، مگر بچپن ہی میں والد کے انتقال کے بعد ان کی پرورش والدہ نے کی۔ ابتدائی تعلیم عربی مدرسے میں حاصل کی، بعد ازاں ذاتی مطالعے کے ذریعے انگریزی زبان اور مغربی علوم پر گہری دسترس حاصل کی۔
مولانا وحیدالدین خاں نے اسلام اور دورِ جدید کے باہمی تعلق کو اپنی فکری کاوش کا مرکز بنایا۔ ان کا ماننا تھا کہ موجودہ دور میں اسلام کی سب سے بڑی خدمت یہ ہے کہ اس کی حقانیت کو جدید علمی و سائنسی دلائل کے ساتھ واضح کیا جائے اور دنیا تک پُرامن انداز میں اس کا پیغام پہنچایا جائے۔ اسی فکر کے تحت انھوں نے سیکڑوں کتابیں تصنیف کیں، جن میں تذکیر القرآن (تفسیرِ قرآن)، مذہب اور جدید چیلنج، پیغمبر انقلاب، دعوتِ اسلام، اسلام اور عصرِ حاضر اور کتابِ معرفت خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ انھوں نے قرآنِ مجید کا انگریزی ترجمہ بھی کیا۔
دعوتی میدان میں ان کا سب سے بڑا کارنامہ نئی دہلی میں اسلامک سینٹر فار ریسرچ اینڈ دعوہ کا قیام اور 1976ء میں ماہنامہ الرسالہ کا اجرا ہے، جو اصلاحِ امت اور فکری بیداری کا اہم ذریعہ بنا۔ بعد ازاں 2001ء میں سنٹر فار پیس اینڈ اسپریچولٹی (CPS International) قائم کیا، جس کا مقصد عالمی سطح پر امن، رواداری اور روحانیت کا فروغ ہے۔
مولانا وحیدالدین خاں کو ان کی علمی و دعوتی خدمات کے اعتراف میں متعدد قومی و بین الاقوامی اعزازات سے نوازا گیا، جن میں پدم بھوشن (2000ء) نمایاں ہے۔ وہ عالمی سطح پر Ambassador of Peace کے طور پر جانے جاتے تھے۔
وفات: 21 اپریل 2021ء، نئی دہلی