مصنف: تعارف

گوپی چند نارنگ اردو کے ایک بڑے نقاد، تھیوریسٹ اور ماہر لسانیات ہیں۔ ایک ادیب، نقاد، اسکالر اور پروفیسر کے طور پر انہیں ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں ایک جیسی مقبولیت حاصل ہے۔  گوپی چند نارنگ کے نام یہ انوکھا ریکارڈ ہے کہ انہیں حکومت پاکستان کی طرف سے ممتاز ستارہ امتیاز (اعلیٰ کارکردگی) اور حکومت ہند کی طرف سے پدم بھوشن اور پدم شری سے نوازا گیا ہے۔
ان کے کاموں کے لیے انہیں اور بھی کئی اعزازات سے نوازا گیا ہے۔  جن میں  اٹلی کا مزینی گولڈ میڈل، شکاگو کا امیر خسرو ایوارڈ، غالب ایوارڈ، کینیڈین اکیڈمی آف اردو لینگویج اینڈ لٹریچر ایوارڈ، اور یورپی اردو رائٹرز سوسائٹی ایوارڈ شامل ہیں۔ ساہتیہ اکادمی نے انہیں 2009 میں اپنی باوقار فیلوشپ سے بھی نوازا تھا۔
 نارنگ نے ہندی اور انگریزی دونوں زبانوں میں کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان کا شمار اردو کے مضبوط حامیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ اس حقیقت پر افسوس کرتے ہیں کہ اردو زبان سیاست کاری کا شکار رہی ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ اردو کی جڑیں ہندوستان میں ہیں اور  ہندی دراصل اردو زبان کی بہن ہے۔

.....مزید پڑھئے

پروفیسر خالد محمود15، جنوری 1948ء کو سرونج ضلع ودیشہ مدھیہ پردیش میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام احمد شاہ خاں اور والدہ کا نام سلطان جہاں بیگم تھا۔ آپ کی ابتدائی تعلیم مدرسہ ریاض المدارس سرونج میں ہوئی۔ ہائر سیکنڈری کا امتحان پاس کرنے کے بعد آپ بھوپال آگئے جہاں حمیدیہ گورنمنٹ کالج سے بی اے اور سیفیہ کالج سے بی ایڈ اور ایم اے (اردو) کے امتحانات پاس کیے۔ 1976ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ،نئی دہلی کے ہائر سیکنڈری اسکول میں بحیثیت پی جی ٹی (اردو) آپ کا پہلا تقرر ہوا۔1989ء میں ”اردو سفرناموں کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ“ کے موضوع پر پروفیسر مظفر حنفی کی نگرانی میں شعبۂ اردو جامعہ ملیہ اسلامیہ سے پی ایچ ڈی کیا اور1991ء میں بحیثیت اسسٹنٹ پروفیسر اسی شعبہ سے وابستہ ہوگئے۔ 1998ء میں ایسوسئیٹ پروفیسر ہوئے اور2006ء میں پروفیسر بن گئے۔2010سے 2013 تک شعبۂ اردو کی صدارت کے منصب پر فائز رہے۔2013ء آپ کی ملازمت کا آخری سال تھا مگر اعلیٰ کارکردگی کی بنیاد پر آپ کو تین سال کی توسیع دے دی گئی اور چالیس سالہ خدمات کے بعد2016ء میں سبکدوش ہوئے۔ جامعہ میں آپ کی ملازمت کا پورا عہد شاندار رہا۔ آپ کے دور صدارت میں کئی یادگار کام ہوئے۔ ”ارمغان“کے نام سے شعبۂ اردو کا پہلا ادبی مجلہ شائع ہوا۔ مجلے کی سالانہ اشاعت کی اجازت ملی اور بجٹ منظور ہوا۔ رابندر ناتھ ٹیگور کی کتابوں کے اردو تراجم کے لیے منسٹری آف کلچر گورنمنٹ آف انڈیا سے ایک بڑا پروجیکٹ ملا جس کے تحت چھیانوے لاکھ روپے کی خطیر رقم منظور ہوئی۔ اس گرانٹ سے ٹیگور کی 13کتابیں اردو میں ترجمہ ہوئیں۔ ان کی اشاعت ہوئی اور ٹیگور پر کئی سیمینار اور ورکشاپ منعقد کئے گئے۔ ٹیگور کے بعد دوسرے موضوعات پر بھی سیمینار ہوئے۔ ان کے مقالات بھی کتابی شکل میں شائع کیے گئے۔ جن میں ”اردو صحافت۔ ماضی اور حال“۔ ”ابن صفی۔ شخصیت اور فن“، ”خطبات شعبۂ اردو“ اور ”رابندر ناتھ ٹیگور۔فکر وفن“ جیسی اہم کتابیں شامل ہیں۔

پروفیسر خالد محمود مشہور اشاعتی ادارے مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ کے مینیجنگ ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں۔ اپنی اس حیثیت میں آپ نے مکتبہ کی چار سو آؤٹ آف پرنٹ قیمتی کتابیں جن کی تعداد ”ہر کتاب گیارہ سور کے حساب سے بعد از طباعت چار لاکھ چالیس ہزار ہوتی ہے“، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اشتراک سے مکتبہ کی ایک پائی بھی خرچ کئے بغیر ری پرنٹ کرانے میں کامیابی حاصل کی جو آپ کا ایک بڑا کارنامہ ہے۔اسی کے ساتھ مکتبہ کے مرکزی دفتر کے لیے جامعہ سے دو منزلہ عمارت بھی حاصل کرلی۔ یہ عمارت جامعہ کے مین روڈ پر واقع ہے۔ اس دوران آپ ماہنامہ ”کتاب نما“ اور بچوں کے ماہنامے ”پیام تعلیم“ کے مدیر اعلیٰ بھی رہے۔

2014 ء میں آپ دہلی اردو اکیڈمی کے وائس چیرمین مقرر ہوئے وہاں بھی آپ نے بڑے بڑے سیمیناروں، یادگاری اور توسیعی خطبوں نیز مختلف ادبی اور ثقافتی پروگراموں کا تسلسل قائم رکھا۔ بہت سی نئی کتابوں کی اشاعت عمل میں آئی جن میں اہم ادیبوں اور شاعروں کے مونوگراف شامل ہیں۔

پروفیسر خالد محمود بنیادی طور پر ایک ممتاز استاد، خوش فکر شاعر، ذہین طنز ومزاح نگار، مترجم، نقاد اور صاحب اسلوب نثر نگار ہیں۔ آپ کی نثری کتب ”اردو سفرناموں کا تنقیدی مطالعہ“، ”ادب کی تعبیر“،”نقوش معنی“، ”تحریر کے رنگ“، ”ادب اور صحافتی ادب“، تفہیم و تعبیر اور شاہ مبارک آبرو (مونو گراف) ادبی حلقوں میں قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ آپ کے شعری مجموعے ”سمندر آشنا“، ”شعر چراغ“اور ”شعر زمین“ بھی اہل نظر سے داد و تحسین حاصل کرچکے ہیں۔ آپ کے انشائیوں اور خاکوں پر مشتمل کتاب ”شگفتگی دل کی“ شگفتہ دلوں میں بہت مقبول ہے۔ آپ نے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کی درخواست پر مشہور طنز و مزاح نگار ملا رموزی کا کلیات اپنے طویل مقدمے کے ساتھ چھ جلدو ں میں مرتب کیا ہے۔ دہلی اردو اکیڈمی کی جانب سے بھی آپ نے اردو میں طنز و مزاح کی روایت پر سہ روزہ کل ہند سیمینار منعقد کیا اور اس کے مقالات کو کتابی شکل میں ترتیب دیا ہے۔ یہ کتاب بہت پسند کی گئی۔ آپ نے درسی کتابوں کی ترتیب و تالیف میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی کتابیں ہیں جنہیں آپ نے بہ اشتراک مرتب کیا ہے۔ 

ملک کے متعدد علمی اور ادبی اداروں نے آپ کی خدمات کے اعتراف میں انعامات و اعزاز پیش کئے ہیں۔ ساہتیہ اکیڈمی نے ترجمہ ایوارڈ، غالب انسٹی ٹیوٹ نے ”غالب ایوارڈ برائے اردو نثر“  دہلی اردو اکیڈمی نے شاعری، مدھیہ پردیش اردو اکیڈمی نے کل ہند میر تقی میر ایوارڈ اور دہلی اقلیتی کمیشن نے فروغ اردو ایوارڈسے سرفراز کیا ہے۔ آپ کی شخصیت اور ادبی خدمات پر بہت سے مضامین اور کتابیں بھی لکھی جا چکی ہیں۔ 1998 میں ڈاکٹر سیفی سرونجی نے اپنے رسالے ”انتساب“ کا ایک ضخیم نمبر نکالا۔2009 میں بعنوان ”خالد محمود۔ شخصیت اور فن“ ایک کتاب مرتب کرکے شائع کی۔2010ء میں ”خالد محمود بحیثیت انشائیہ نگار“ ایک اور کتاب تصنیف کرکے چھاپی۔2015ء میں برکت اللہ یونیورسٹی بھوپال نے محمد ایاز خان کو ”ڈاکٹر خالد محمود۔ فن اور شخصیت“ پر پی ایچ ڈی کی ڈگری تفویض کی۔

آپ نے دنیا کے کئی ملکوں خصوصاً کینیڈا، امریکہ، لندن، پیرس، نیدر لینڈ، سوئٹزرلینڈ، جرمنی، بیلجیم،آسٹریلیا، اٹلی(روم) ویٹکن سٹی، دبئی، شارجہ، ابو ظہبی، سعود ی عرب، ماریشس اور پاکستان کے ادبی اور سیاحتی سفر کیے ہیں اور بعض ملکوں کے سیمیناروں اور ادبی محفلوں میں شرکت کی ہے جو آپ کے تجربات کا روشن باب ہے۔ 

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

قارئین کی پسند

اگر آپ دوسرے قارئین کی دلچسپیوں میں تجسس رکھتے ہیں، تو ریختہ کے قارئین کی پسندیدہ

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے