کتب خانہ: تعارف
غالب اکیڈمی ایک تعلیمی، ثقافتی اور تحقیقی ادارہ ہے، جس کی بنیاد حکیم عبد الحمید نے 1969ء میں مرزا اسد اللہ خاں غالب کی یاد میں رکھی۔ اس کا افتتاح 22 فروری 1969ء کو اس وقت کے صدرِ جمہوریہ ہند ڈاکٹر ذاکر حسین نے غالب کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر کیا۔ یہ ادارہ دہلی کی بستی نظام الدین میں حضرت نظام الدین اولیاء کی مزار اور مرزا غالب کے مقبرے کے قریب واقع ہے۔
غالب اکیڈمی کا قیام غالب کی ادبی خدمات، ان کے عہد اور اردو زبان کے علمی و تہذیبی ورثے کے تحفظ، تحقیق اور اشاعت کے مقصد سے عمل میں آیا۔
اکیڈمی میں غالب میوزیم، تحقیقی لائبریری، آرٹ گیلری، آڈیٹوریم، شعبۂ تحقیق، اشاعتی مرکز اور قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان کے اشتراک سے قائم کمپیوٹرائزڈ خطاطی تربیتی مرکز شامل ہیں۔ اس کی تحقیقی لائبریری میں غالب، ان کے عہد اور اردو ادب سے متعلق نادر کتب اور مراجع کا ایک وقیع ذخیرہ محفوظ ہے، جس سے ہندوستان اور بیرونِ ملک کے محققین، ادیب، شعرا اور طلبہ استفادہ کرتے ہیں۔ اکیڈمی کی مطبوعات اردو تحقیق میں اہم اضافہ سمجھی جاتی ہیں، جبکہ یہاں محفوظ بعض علمی مراجع ایسے ہیں جو دیگر کتب خانوں میں دستیاب نہیں۔
غالب اکیڈمی اردو زبان و ادب کے فروغ کے لیے باقاعدگی سے سیمینار، مشاعرے، ورکشاپس، ادبی نشستیں، نمائشیں اور ثقافتی پروگرام منعقد کرتی ہے، جن میں غالب اور دیگر ممتاز اردو شخصیات کی خدمات کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ ادارہ قومی یکجہتی، علمی تحقیق اور اردو تہذیب کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ اس کے گراں قدر علمی ذخیرے کا ایک منتخب حصہ اب ریختہ کی ڈیجیٹل لائبریری پر بھی دستیاب ہے، جہاں دنیا بھر کے قارئین اور محققین اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔