آب کی تاثیر میں ہوں پیاس کی شدت میں ہوں

بھارت بھوشن پنت

آب کی تاثیر میں ہوں پیاس کی شدت میں ہوں

بھارت بھوشن پنت

MORE BYبھارت بھوشن پنت

    آب کی تاثیر میں ہوں پیاس کی شدت میں ہوں

    ابر کا سایہ ہوں لیکن دشت کی وسعت میں ہوں

    یوں تو اپنا لگ رہا ہے جسم کا یہ گھر مجھے

    روح لیکن کہہ رہی ہے دیکھ میں غربت میں ہوں

    اور تو اپنی خبر ہے سب مجھے اس کے سوا

    کون ہوں کیوں ہوں کہاں ہوں اور کس حالت میں ہوں

    یاد بھی آتا نہیں کچھ بھولتا بھی کچھ نہیں

    یا بہت مصروف ہوں میں یا بہت فرصت میں ہوں

    میں ہوا بیدار تو ہر شخص یہ کہنے لگا

    نیند میں ہوں خواب میں ہوں یا کسی غفلت میں ہوں

    زندگی نے کیا دیا تھا موت نے کیا لے لیا

    خاک سے پیدا ہوا تھا خاک کی صحبت میں ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY