آدمی آدمی سے ملتے ہیں

راغب بدایونی

آدمی آدمی سے ملتے ہیں

راغب بدایونی

MORE BYراغب بدایونی

    INTERESTING FACT

    مشاعرہ سہارن پور۔ 19 ستمبر 1912 ء

    آدمی آدمی سے ملتے ہیں

    آپ بھی کیا کسی سے ملتے ہیں

    یہ حسیں جس کسی سے ملتے ہیں

    جانتا ہے مجھی سے ملتے ہیں

    ہم سے فرقت نصیب کیا جانیں

    جو مزے زندگی سے ملتے ہیں

    کیا بتائیں جنوں میں کیا کیا لطف

    ہم کو ان کی ہنسی سے ملتے ہیں

    کیا کہیں جب وہ ملتے ہیں تنہا

    ان سے ہم کس خوشی سے ملتے ہیں

    اس کی صورت کو پھر کوئی دیکھے

    جس سے وہ بے رخی سے ملتے ہیں

    ان کی رخصت کے وقت ہم ان سے

    ہائے کس بیکسی سے ملتے ہیں

    لاکھ غم زندگی ہے خود یعنی

    لاکھ غم زندگی سے ملتے ہیں

    اپنے مذہب میں ہے نفاق حرام

    جس سے ملتے ہیں جی سے ملتے ہیں

    سخن داغؔ کے مرے راغبؔ

    سخن شوقؔ ہی سے ملتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY