آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا

مومن خاں مومن

آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا

مومن خاں مومن

MORE BYمومن خاں مومن

    آگ اشک گرم کو لگے جی کیا ہی جل گیا

    آنسو چو اس نے پونچھے شب اور ہاتھ پھل گیا

    پھوڑا تھا دل نہ تھا یہ موے پر خلل گیا

    جب ٹھیس سانس کی لگی دم ہی نکل گیا

    کیا روؤں خیرہ چشمی بخت سیاہ کو

    واں شغل سرمہ ہے ابھی یاں سیل ڈھل گیا

    کی مجھ کو ہاتھ ملنے کی تعلیم ورنہ کیوں

    غیروں کو آگے بزم میں وہ عطر مل گیا

    اس کوچے کی ہوا تھی کہ میری ہی آہ تھی

    کوئی تو دل کی آگ پہ پنکھا سا جھل گیا

    جوں خفتگان خاک ہے اپنی فتادگی

    آیا جو زلزلہ کبھی کروٹ بدل گیا

    اس نقش پا کے سجدے نے کیا کیا کیا ذلیل

    میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

    کچھ جی گرا پڑے تھا پر اب تو نے ناز سے

    مجھ کو گرا دیا تو مرا جی سنبھل گیا

    مل جائے گر یہ خاک میں اس نے وہاں کی خاک

    گل کی تھی کیوں کہ پاؤں وہ نازک پھسل گیا

    بت خانے سے نہ کعبے کو تکلیف دے مجھے

    مومنؔ بس اب معاف کہ یاں جی بہل گیا

    مآخذ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY