آگ کے درمیان سے نکلا

شکیب جلالی

آگ کے درمیان سے نکلا

شکیب جلالی

MORE BY شکیب جلالی

    آگ کے درمیان سے نکلا

    میں بھی کس امتحان سے نکلا

    پھر ہوا سے سلگ اٹھے پتے

    پھر دھواں گلستان سے نکلا

    جب بھی نکلا ستارۂ امید

    کہر کے درمیان سے نکلا

    چاندنی جھانکتی ہے گلیوں میں

    کوئی سایہ مکان سے نکلا

    ایک شعلہ پھر اک دھویں کی لکیر

    اور کیا خاکدان سے نکلا

    چاند جس آسمان میں ڈوبا

    کب اسی آسمان سے نکلا

    یہ گہر جس کو آفتاب کہیں

    کس اندھیرے کی کان سے نکلا

    شکر ہے اس نے بے وفائی کی

    میں کڑے امتحان سے نکلا

    لوگ دشمن ہوئے اسی کے شکیبؔ

    کام جس مہربان سے نکلا

    مآخذ:

    • Book: Kulliyat Shakeb Jamali (Pg. 161)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites