آگ زخموں کی جلا کر دیکھو

میر نقی علی خاں ثاقب

آگ زخموں کی جلا کر دیکھو

میر نقی علی خاں ثاقب

MORE BY میر نقی علی خاں ثاقب

    آگ زخموں کی جلا کر دیکھو

    جی کو اک روگ لگا کر دیکھو

    کتنی معصوم ہے روداد حیات

    خود کو آسیب بنا کر دیکھو

    شکوۂ نیم نگاہی ہے غلط

    پھر تو چہرہ ہی ملا کر دیکھو

    کیا کہیں لفظ محبت ہے گراں

    دل کے اوراق اٹھا کر دیکھو

    کتنے چہرے ہیں نقاب آلودہ

    لو چراغوں کی بڑھا کر دیکھو

    اپنی بچھڑی ہوئی تنہائی سے

    کیوں نہ اک بار وفا کر دیکھو

    بہتی موجوں کو قرار آ جائے

    نغمۂ درد سنا کر دیکھو

    کتنے شفاف ہیں یادوں کے بدن

    تم انہیں ہاتھ لگا کر دیکھو

    دل کی جنت کو سکوں کچھ تو ملے

    دشت و صحرا ہی بسا کر دیکھو

    بستر گل پہ بہت رات گئے

    کوئی سوتا ہے جگا کر دیکھو

    ان مکانوں میں مکیں کوئی نہیں

    ویسے زنجیر ہلا کر دیکھو

    نام اپنا بھی کہیں ہے کہ نہیں

    میرا دیوان اٹھا کر دیکھو

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY