آغاز عاشقی کا اللہ رے زمانہ

عرشی بھوپالی

آغاز عاشقی کا اللہ رے زمانہ

عرشی بھوپالی

MORE BYعرشی بھوپالی

    آغاز عاشقی کا اللہ رے زمانہ

    ہر بات بہکی بہکی ہر گام والہانہ

    وہ سجدہ ہائے پیہم وہ ان کا آستانہ

    اے کاش لوٹ آئے گزرا ہوا زمانہ

    کونین کی توجہ اس بے رخی پہ صدقے

    ہونٹوں پہ ہے تبسم تیور مخالفانہ

    مجھ کو نہ تھی گوارا اپنی شکست لیکن

    کیا کہئے اس نظر کا انداز فاتحانہ

    سو بار دیکھ کر بھی یوں مضطرب ہیں نظریں

    جیسے گزر گیا ہو دیکھے ہوئے زمانہ

    محسوس ہو چلی ہیں تنہائیاں انہیں بھی

    رکھے خدا سلامت پندار عاشقانہ

    کیا اختیار اپنا مجبوریوں پہ دل کی

    مانا کہ مشورہ ہے ناصح کا مخلصانہ

    پھر چاند اور ستارے پھیلا رہے ہیں ظلمت

    ایک تیری یاد سے تھا روشن سیاہ خانہ

    ربط نگاہ و دل کو مدت ہوئی ہے عرشیؔ

    ان کا مرا تعارف اب تک ہے غائبانہ

    مأخذ :
    • کتاب : Taqdeer-e-hina (Pg. 71)
    • Author : Arshi Bhopali
    • مطبع : Hind Offset Printers, Bhopal

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY