آہستہ بولیے گا تماشا کھڑا نہ ہو

صابر

آہستہ بولیے گا تماشا کھڑا نہ ہو

صابر

MORE BYصابر

    آہستہ بولیے گا تماشا کھڑا نہ ہو

    بیرون خواب کوئی ہمیں سن رہا نہ ہو

    دیواریں اٹھ گئی نہ ہوں دشت جنون میں

    رم خوردہ وہ غزال کہیں گمشدہ نہ ہو

    رخت سفر میں باندھ لیں پر شور کچھ بھنور

    دریا ہے پر سکون سفر بے مزہ نہ ہو

    یوں تو وہ ایک عام سا پتھر ہے میل کا

    لیکن وہاں سے آگے اگر راستہ نہ ہو

    مسجد پکارتی رہی حی علی الفلاح

    جیسے ہمارا اپنا کوئی فلسفہ نہ ہو

    ہم کاٹ دیں گے عمر کی زنجیر ایک دن

    ہم زاد کرب دید سے شاید رہا نہ ہو

    اک چاند مجھ کو تاکتا رہتا ہے ان دنوں

    جیسے سوائے میرے کوئی آئینہ نہ ہو

    ہنس ہنس کے اس سے باتیں کیے جا رہے ہو تم

    صابرؔ وہ دل میں اور ہی کچھ سوچتا نہ ہو

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY