آئی ہے ایسے غم میں روانی پرت پرت

نبیل احمد نبیل

آئی ہے ایسے غم میں روانی پرت پرت

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    آئی ہے ایسے غم میں روانی پرت پرت

    بہنے لگا ہے آنکھ سے پانی پرت پرت

    باندھا ہے جب سے تیرے تصور کو شعر میں

    شعروں کے کھل رہے ہیں معانی پرت پرت

    چھایا رہا ہو جیسے بڑھاپا نفس نفس

    گزری ہے ایسے اپنی جوانی پرت پرت

    دل کے ورق ورق پہ ترا نام ثبت ہے

    اک تو ہی دھڑکنوں میں ہے جانی پرت پرت

    گرد و غبار غم سے اٹی ہے فضا فضا

    ہوتی تھی کوئی رت جو سہانی پرت پرت

    لیکن بنا نہ قیس کی صورت ہمارا نام

    صحرا کی خاک ہم نے بھی چھانی پرت پرت

    کوئی جواز دے نہ سکا میری بات کا

    اس نے غلط کہا ہے زبانی پرت پرت

    یادیں دلا رہی ہے ستم گر کی بار بار

    مجھ کو رلا رہی ہے نشانی پرت پرت

    حاصل کروں گا جیسے بھی ممکن ہوا اسے

    میں نے نبیلؔ دل میں ہے ٹھانی پرت پرت

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY