آئنہ پیار کا اک عکس ترا مانگے ہے

نیاز حسین لکھویرا

آئنہ پیار کا اک عکس ترا مانگے ہے

نیاز حسین لکھویرا

MORE BYنیاز حسین لکھویرا

    آئنہ پیار کا اک عکس ترا مانگے ہے

    دل بھرے شہر میں بس تیری صدا مانگے ہے

    جسم خود سر ہے کہ ہر درد سہے جاتا ہے

    ایسا ضدی ہے کہ جینے کی سزا مانگے ہے

    رات ڈھل جائے تو ہاتھوں کی لکیریں جاگیں

    بے سکوں ذہن ہمیشہ یہ دعا مانگے ہے

    خوش بدن ہو تو ذرا خود کو بچا کر رکھو

    موسم زرد کوئی پیڑ ہرا مانگے ہے

    میں ہی خود کو کسی مقتل میں سجا کر رکھ دوں

    تیز آندھی کوئی ننھا سا دیا مانگے ہے

    کون ہے جو کہ سرابوں سے الجھنا چاہے

    کون ہے جو کہ مرے گھر کا پتہ مانگے ہے

    پرورش جس میں گل تازہ کی ہوتی ہے نیازؔ

    پیار کا پھول وہی آب و ہوا مانگے ہے

    مآخذ :
    • کتاب : Abr, Hawa aur Barish (Pg. 38)
    • Author : Niyaz Hussain Lakhvira
    • مطبع : Mavaraa Publications (1988)
    • اشاعت : 1988

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY