آئنے کہتے ہیں اس خواب کو رسوا نہ کرو

محبوب خزاں

آئنے کہتے ہیں اس خواب کو رسوا نہ کرو

محبوب خزاں

MORE BYمحبوب خزاں

    آئنے کہتے ہیں اس خواب کو رسوا نہ کرو

    ایسے کھوئے ہوئے انداز سے دیکھا نہ کرو

    کیسے آ جاتی ہے کونپل پہ یہ جادو کی لکیر

    دن گزر جاتے ہیں محسوس کرو یا نہ کرو

    کہیں دیوار قیامت کبھی زنجیر ازل

    کیا کرو عشق زیاں کیش میں اور کیا نہ کرو

    بھاگتے جاؤ کسی سمت کسی سائے سے

    تذکرہ ایک ہے افسانہ در افسانہ کرو

    پھر کوئی تازہ گھروندا کسی ویرانے میں

    گاؤں کو شہر کرو شہر کو ویرانہ کرو

    بزم امکاں ہوئی دو گھونٹ لہو آنکھوں میں

    حرص کہتی ہے کہ کونین کو پیمانہ کرو

    کیوں نہ ہو مجھ سے شکایت تمہیں تم وہ ہو کہ پھر

    اسے جیتا بھی نہ چھوڑو جسے دیوانہ کرو

    ایک ہی رات سہی پھول تو کھلتے ہیں خزاںؔ

    موت میں کیا ہے کہ جینے کی تمنا نہ کرو

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے