آئنہ سے گزرنے والا تھا

اورنگ زیب

آئنہ سے گزرنے والا تھا

اورنگ زیب

MORE BY اورنگ زیب

    آئنہ سے گزرنے والا تھا

    عکس ہستی بکھرنے والا تھا

    لفظ ترتیب دے رہا تھا میں

    شعر مجھ پر اترنے والا تھا

    دوست تصویر تو پرائی تھی

    میں تو بس رنگ بھرنے والا تھا

    ہم بھی کیا اس کے ساتھ مر جاتے

    مرنے والا تو مرنے والا تھا

    پھر اچانک بدل گیا منظر

    میں جسے نقش کرنے والا تھا

    پھر مجھے سامنے سے ہٹنا پڑا

    آئنہ مجھ سے ڈرنے والا تھا

    وہ تو ناخن نے مہربانی کی

    ورنہ یہ زخم بھرنے والا تھا

    پھول تھا شاخ کی ہتھیلی پر

    اور ہوا میں بکھرنے والا تھا

    اب کہ سورج تھا اشتہا میری

    میں وہاں پاؤں دھرنے والا تھا

    تم نے دیکھا تھا کتنا شرمندہ

    مجھ پہ تنقید کرنے والا تھا

    تشنگی تھی عروج پر اپنی

    اور دریا اترنے والا تھا

    حادثہ عین اس جگہ پہ ہوا

    میں جہاں سے گزرنے والا تھا

    زیبؔ آنکھیں نا بند کرتا اگر

    خوف اندر اترنے والا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY