آئیے آسماں کی اور چلیں

حنیف ترین

آئیے آسماں کی اور چلیں

حنیف ترین

MORE BYحنیف ترین

    آئیے آسماں کی اور چلیں

    ساتھ لے کر زمیں کا شور چلیں

    چاند الفت کا استعارہ ہے

    جس کی جانب سبھی چکور چلیں

    یوں دبے پاؤں آئی تیری یاد

    جیسے چپکے سے شب میں چور چلیں

    دل کی دنیا عجیب دنیا ہے

    عقل کے اس پہ کچھ نہ زور چلیں

    سبز رت چھائی یوں ان آنکھوں کی

    جس طرح ناچ ناچ مور چلیں

    تم بھی یوں مجھ کو آ کے لے جاؤ

    جیسے لے کر پتنگیں ڈور چلیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY