آج اک لہر بھی پانی میں نہ تھی

راجیندر منچندا بانی

آج اک لہر بھی پانی میں نہ تھی

راجیندر منچندا بانی

MORE BYراجیندر منچندا بانی

    آج اک لہر بھی پانی میں نہ تھی

    کوئی تصویر روانی میں نہ تھی

    ولولہ مصرعۂ اول میں نہ تھا

    حرکت مصرعۂ ثانی میں نہ تھی

    کوئی آہنگ نہ الفاظ میں تھا

    کیفیت کوئی معانی میں نہ تھی

    خوں کا نم سادہ نوائی میں نہ تھا

    خوں کی بو شوخ بیانی میں نہ تھی

    کوئی مفہوم تصور میں نہ تھا

    کوئی بھی بات کہانی میں نہ تھی

    رنگ اب کوئی خلاؤں میں نہ تھا

    کوئی پہچان نشانی میں نہ تھی

    خوش یقینی میں نہ تھا اب کوئی نور

    ضو کوئی خندہ گمانی میں نہ تھی

    جی سلگنے کا دھواں خط میں نہ تھا

    روشنی حرف زبانی میں نہ تھی

    رنج بھولے ہوئے وعدے کا نہ تھا

    لذت اب یاد دہانی میں نہ تھی

    لو کہ جامد سی غزل بھی لکھ دی

    آج کچھ زندگی بانیؔ میں نہ تھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY