آج تک دل کی آرزو ہے وہی

جلیل مانک پوری

آج تک دل کی آرزو ہے وہی

جلیل مانک پوری

MORE BY جلیل مانک پوری

    آج تک دل کی آرزو ہے وہی

    پھول مرجھا گیا ہے بو ہے وہی

    سو بہاریں جہاں میں آئی گئیں

    مایۂ صد بہار تو ہے وہی

    جو ہو پوری وہ آرزو ہی نہیں

    جو نہ پوری ہو آرزو ہے وہی

    مان لیتا ہوں تیرے وعدے کو

    بھول جاتا ہوں میں کہ تو ہے وہی

    تجھ سے سو بار مل چکے لیکن

    تجھ سے ملنے کی آرزو ہے وہی

    صبر آ جائے اس کی کیا امید

    میں وہی، دل وہی ہے، تو ہے وہی

    ہو گئی ہے بہار میں کچھ اور

    ورنہ ساغر وہی سبو ہے وہی

    عمر گزری تلاش میں لیکن

    گرمیٔ ہائے جستجو ہے وہی

    مے کدہ کا جلیلؔ رنگ نہ پوچھ

    رقص جام و خم و سبو ہے وہی

    مآخذ:

    • Book: Kainat-e-Jalil Manakpuri (Pg. 351)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites