آج ویرانیوں میں مرا دل نیا سلسلہ چاہتا ہے

رفیق خیال

آج ویرانیوں میں مرا دل نیا سلسلہ چاہتا ہے

رفیق خیال

MORE BY رفیق خیال

    آج ویرانیوں میں مرا دل نیا سلسلہ چاہتا ہے

    شام ڈھلنے کو ہے زندگی کی خدا اور کیا چاہتا ہے

    دھوپ کی نیتوں میں بھڑکنے لگے نفرتوں کے الاؤ

    اے گھٹا اس لیے تجھ کو میرا بدن اوڑھنا چاہتا ہے

    نیند کی راحتوں سے نہیں مطمئن سلسلہ دھڑکنوں کا

    پھر دل زار رعنائیوں میں گندھا رتجگا چاہتا ہے

    تیری نزدیکیوں کو پہن کے میں شہزادہ لگنے لگا ہوں

    چھو کے رنگینیاں اب کے دیکھوں تری، جی بڑا چاہتا ہے

    پرورش حوصلوں کی تمام عمر میرے لہو نے خموشی سے کی

    اب جنوں عکس کو دیکھنے کے لیے آئینہ چاہتا ہے

    جو ہتھیلی کی ساری پرانی لکیروں کو تبدیل کر دے

    ایسا خوش رنگ ہر آدمی اب یہاں سانحہ چاہتا ہے

    تم سمندر کے سہمے ہوئے جوش کو میرا پیغام دینا

    موسم حبس میں پھر کوئی آج تازہ ہوا چاہتا ہے

    عمر بھر آنسوؤں سے جو دھوتا رہا چہرہ محرومیوں کا

    وہ تری رحمتوں سے مرے مولا اب کے جزا چاہتا ہے

    ناز تھا جس کو میری رفاقت کے ہر لمحۂ مختصر پر

    آج محسوس ایسا ہوا ہے کہ وہ فاصلہ چاہتا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites