آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماری

میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی

آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماری

میرزا الطاف حسین عالم لکھنوی

MORE BYمیرزا الطاف حسین عالم لکھنوی

    آخر نہ چلی کوئی بھی تدبیر ہماری

    بن بن کے بگڑنے لگی تقدیر ہماری

    یہ عشق کے ہاتھوں ہوئی توقیر ہماری

    بازاروں میں بکنے لگی تصویر ہماری

    اس طرح کے دن رات دکھاتی ہے کرشمے

    تقدیر پس پردۂ تدبیر ہماری

    جلدی نہ کرو دھار ہے خنجر پہ ابھی تو

    ہو لینے دو ثابت کوئی تقصیر ہماری

    کچھ خون کی چھینٹیں کہیں اشکوں کی نمی ہے

    جاتی ہے عجب شان سے تحریر ہماری

    ہر سمت دہک اٹھتی ہے اک آگ جہاں میں

    لو دیتی ہے جب رات کو زنجیر ہماری

    بس ڈال لو چہرے پہ نقاب اپنے خدارا

    بے ربط ہوئی جاتی ہے تقریر ہماری

    یہ کہتے ہی بس مر گیا ناکام محبت

    تم بھی نہ ہمارے ہوئے تقدیر ہماری

    عالمؔ فلک تفرقہ پرداز کا ڈر ہے

    بنتے ہی بگڑ جائے نہ تقدیر ہماری

    مآخذ :
    • کتاب : Intekhab-e-Kuliyat Aalim Lucknowi (Pg. 291)
    • Author : Mirza Mohammad Yousuf
    • مطبع : M. R. Publication (2010)
    • اشاعت : 2010

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY