آخرش آرائشوں کی زندگی چبھنے لگی

سوربھ شیکھر

آخرش آرائشوں کی زندگی چبھنے لگی

سوربھ شیکھر

MORE BYسوربھ شیکھر

    آخرش آرائشوں کی زندگی چبھنے لگی

    اوب سی ہونے لگی مجھ کو خوشی چبھنے لگی

    میں نہ کہتا تھا کہ تھوڑی سی ہوس باقی رکھو

    دیکھ لو اب اس طرح آسودگی چبھنے لگی

    خواب کا سیلاب کیا گزرا نگاہوں سے مری

    ریت پلکوں سے جو چپکی نیند بھی چبھنے لگی

    تیرگی کا دشت ناپا روشنی کے واسطے

    روشنی پھیلی تو مجھ کو روشنی چبھنے لگی

    سخت ایک لمحے کی رو میں آ کے توبہ کر گئے

    حلق میں میرے مگر اب تشنگی چبھنے لگی

    اک پشیمانی سی تھی مجھ کو مری آواز سے

    اور جب میں چپ ہوا تو خامشی چبھنے لگی

    یہ بھی کیا ہے بھید میرا کھول دو تم بارہا

    یار سوربھؔ اب تو تیری مخبری چبھنے لگی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY