آنکھ نے دھوکہ کھایا تھا یا سایا تھا

انعام ندیمؔ

آنکھ نے دھوکہ کھایا تھا یا سایا تھا

انعام ندیمؔ

MORE BY انعام ندیمؔ

    آنکھ نے دھوکہ کھایا تھا یا سایا تھا

    وہ کھڑکی میں آیا تھا یا سایا تھا

    دروازے کے پیچھے اک پرچھائیں تھی

    اس نے ہاتھ ہلایا تھا یا سایا تھا

    ایک لکیر دھوئیں کی تھی یا خوشبو کی

    رنگ کوئی لہرایا تھا یا سایا تھا

    ابھی جو میرے پاس تھا شاید اپنا تھا

    شاید کوئی پرایا تھا یا سایا تھا

    نیند سے جاگا ہوں تو بیٹھا سوچتا ہوں

    خواب میں اس کو پایا تھا یا سایا تھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY