آنکھیں اسیر خواب تھیں خواب ایک ہی سے تھے

خالد محمود ذکی

آنکھیں اسیر خواب تھیں خواب ایک ہی سے تھے

خالد محمود ذکی

MORE BYخالد محمود ذکی

    آنکھیں اسیر خواب تھیں خواب ایک ہی سے تھے

    ہر ایک جاں پہ اب کے عذاب ایک ہی سے تھے

    راہ وفائے شوق میں واماندگی کے بعد

    جو بھی ملے تھے خار گلاب ایک ہی سے تھے

    بین السطور ان کے معانی جدا نہ تھے

    جتنے بھی مختلف تھے نصاب ایک ہی سے تھے

    وہ تو کہیں نہیں تھے جنہیں ڈھونڈھتا تھا میں

    جو رہ گئے تھے زیر نقاب ایک ہی سے تھے

    کس کس سے اور پوچھتے اس شہر کا پتا

    وہ جو ہمیں ملے تھے جواب ایک ہی سے تھے

    برسے تو وہ بھی پیاس کی شدت بڑھا گئے

    میرے لئے تو سارے سحاب ایک ہی سے تھے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے