آنکھیں ہی اجڑ جائیں تو کیا خواب سجائیں

محمد اسد اللہ

آنکھیں ہی اجڑ جائیں تو کیا خواب سجائیں

محمد اسد اللہ

MORE BYمحمد اسد اللہ

    آنکھیں ہی اجڑ جائیں تو کیا خواب سجائیں

    نظروں سے اتر جائے تو کیا دل میں بسائیں

    چیخو یہاں اظہار کا اثبات یہی ہے

    آواز کی قاتل ہیں یہ پر شور فضائیں

    اس محشر ادراک میں اک لمحہ عطا کر

    عشرت گہہ احساس میں ہم بھی اتر آئیں

    جسموں کے بلاوے میں گرفتار ہے صحرا

    اور لمس کی آواز میں محبوس گھٹائیں

    بے رنگ تھرکتی ہوئی تتلی کو کسی دن

    کچھ رنگ بھریں آنکھ کے پیالے میں گرائیں

    صحرا میں کھڑے لوگ اسی سوچ میں گم ہیں

    آگے جو بڑھے کوئی تو ہم دوڑ کے جا لیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY