آنکھوں کے اضطراب سے ایسے جھڑے ہیں خواب

نبیل احمد نبیل

آنکھوں کے اضطراب سے ایسے جھڑے ہیں خواب

نبیل احمد نبیل

MORE BYنبیل احمد نبیل

    آنکھوں کے اضطراب سے ایسے جھڑے ہیں خواب

    شب کے شجر پہ نیند کی صورت پڑے ہیں خواب

    آتی نہیں ہے نیند مجھے اس لیے بھی دوست

    آنکھوں کی پتلیوں میں ہزاروں جھڑے ہیں خواب

    نکلا نہ پھر بھی کوئی نتیجہ بہار کا

    تعبیر سے اگرچہ بہت ہی لڑے ہیں خواب

    جب بھی چلا ہوں نیند کے رستے پہ یوں لگا

    ہاتھوں کو جوڑ کر مرے آگے کھڑے ہیں خواب

    دل سے غموں کا اس لیے چھالا نہ جا سکا

    کانٹوں کی مثل چشم طلب میں اڑے ہیں خواب

    تجھ کو کہاں خبر ہے کہ کیسے ہیں رت جگے

    تجھ کو کہاں خبر ہے کہ کتنے کڑے ہیں خواب

    اس بار بھی یہاں خس و خاشاک کی طرح

    آنکھوں میں جس قدر تھے وہ سارے سڑے ہیں خواب

    آیا نہیں نبیلؔ پلٹ کے وہ ایک شخص

    رنجیدہ اس لیے بھی ہمارے بڑے ہیں خواب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY