آنکھوں سے کسی خواب کو باہر نہیں دیکھا

حمیرا راحتؔ

آنکھوں سے کسی خواب کو باہر نہیں دیکھا

حمیرا راحتؔ

MORE BY حمیرا راحتؔ

    آنکھوں سے کسی خواب کو باہر نہیں دیکھا

    پھر عشق نے ایسا کوئی منظر نہیں دیکھا

    یہ شہر صداقت ہے قدم سوچ کے رکھنا

    شانے پہ کسی کے بھی یہاں سر نہیں دیکھا

    ہم عمر بسر کرتے رہے میرؔ کی مانند

    کھڑکی کو کبھی کھول کے باہر نہیں دیکھا

    وہ عشق کو کس طرح سمجھ پائے گا جس نے

    صحرا سے گلے ملتے سمندر نہیں دیکھا

    ہم اپنی غزل کو ہی سجاتے رہے راحتؔ

    آئینہ کبھی ہم نے سنور کر نہیں دیکھا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites