آرزو ہے میں رکھوں تیرے قدم پر گر جبیں

تاباں عبد الحی

آرزو ہے میں رکھوں تیرے قدم پر گر جبیں

تاباں عبد الحی

MORE BYتاباں عبد الحی

    آرزو ہے میں رکھوں تیرے قدم پر گر جبیں

    تو اٹھاوے ناز سے ظالم لگا ٹھوکر جبیں

    اپنے گھر میں تو بہت پٹکا پہ کچھ حاصل نہیں

    اب کے جی میں ہے تری چوکھٹ پہ روؤں دھر جبیں

    جیسی پیشانی تری ہے اے مرے خورشید رو

    چاند کی ہے روشنی میں اس سے کب بہتر جبیں

    شیخ آ جلوہ خدا کا میکدے میں ہے مرے

    کیوں رگڑتا ہے عبث کعبہ کے تو در پر جبیں

    کیا کروں تیرے قدم تک تو نہیں ہے دسترس

    نقش پا ہی پر ترے ملتا ہوں میں اکثر جبیں

    شیخ گر شیطان سے صورت نہیں ملتی تری

    بس بتا داغی ہوئی ہے کس طرح یکسر جبیں

    ہے کسی کی بھی تری سے اوندھی پیشانی بھلا

    دیکھ تو اے شوخ اپنی آئنہ لے کر جبیں

    آ کے جن ہاتھوں سے ملتا تھا ترے تلووں کے تئیں

    پیٹتا ہوں اب انہیں ہاتھوں سے میں اکثر جبیں

    بوجھ کر نقش قدم کو تیرے محراب دعا

    مانگتا ہوں میں مراد دل کو رکھ اس پر جبیں

    چاند کا مکھڑا ہے یا آئینہ یا مصحف کا لوح

    یا تری ہے اے مرے رشک مہ و اختر جبیں

    صاف دل تاباںؔ مکدر ہی کبھو ہوتا نہیں

    آئینہ کی ہے گی روشن دیکھ لے یکسر جبیں

    مأخذ :
    • Deewan-e-Taban Rekhta Website)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY