آشنا کوئی باوفا نہ ملا

امداد علی بحر

آشنا کوئی باوفا نہ ملا

امداد علی بحر

MORE BYامداد علی بحر

    آشنا کوئی باوفا نہ ملا

    کشتئ دل کا ناخدا نہ ملا

    جائے مرہم نمک چھڑکنا تھا

    زخم کھانے کا کچھ مزا نہ ملا

    اس کے کوچے میں ایسے بھولے ہم

    گھر کے جانے کا راستہ نہ ملا

    دل دیا جس کو رنج ہے پایا

    کوئی دل دار باوفا نہ ملا

    زندگی تلخ ہو گئی اپنی

    تجھ سے ملنے کا کچھ مزا نہ ملا

    دیکھ لی ہم نے دوستی تیری

    ہم سے اب آنکھ بے وفا نہ ملا

    کچھ اجارہ نہیں بنے نہ بنے

    کیا شکایت ہے دل ملا نہ ملا

    آسماں پر دماغ یار رہا

    کبھی جھک کر وہ مہ لقا نہ ملا

    بوسۂ لب کی تم سے کیا امید

    ایک بیڑا بھی پان کا نہ ملا

    ڈھونڈھتی ہیں کنشت میں جا کر

    شیخ کعبے میں تو خدا نہ ملا

    ایک اک کو پلائے دو دو جام

    درد بھی ہم کو ساقیا نہ ملا

    نقل کب اصل کی مقابل ہے

    اس کے چہرے سے آ بنا نہ ملا

    نظر آئی جو وہ دہن تو کہوں

    مجھ کو عنقا کا آشیانہ ملا

    جن کو تکیہ تھا اپنی مسند پر

    ان کو دیکھا کہ بوریا نہ ملا

    بحرؔ نکلے تھے ڈھونڈھنے اس کو

    ایسے کھوئے گئے پتا نہ ملا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY