آزادی میں رہنے والے دیکھو کیسے رہتے ہیں

ماہر عبدالحی

آزادی میں رہنے والے دیکھو کیسے رہتے ہیں

ماہر عبدالحی

MORE BYماہر عبدالحی

    آزادی میں رہنے والے دیکھو کیسے رہتے ہیں

    اپنے سائے سے ڈرتے ہیں چونکے چونکے رہتے ہیں

    ہرے بھرے پیڑوں کے اوپر جن کے ٹھور ٹھکانے تھے

    اب وہ پنچھی شور زمیں پر دھوپ میں جلتے رہتے ہیں

    ٹکراتے رہتے ہیں اکثر پتھر جیسے لوگوں سے

    ہم دل والے کرچی کرچی آئینے سے رہتے ہیں

    گہرائی سے موتی لانے والوں کا یہ حال ہوا

    ساحل کی آغوش میں بیٹھے لہریں گنتے رہتے ہیں

    لو کی زد میں رہنے والو ان کی اور نہ دیکھو تم

    بادل کی ہم راہی میں جو اکثر بھیگے رہتے ہیں

    آخر آخر خود بھی زخمی ہو کر ہوتے ہیں بد حال

    اول اول زخموں کے سوداگر اچھے رہتے ہیں

    کیسے کیسے میلے ہو کر واپس آتے ہیں ماہرؔ

    لوگ نکلتے ہیں جب گھر سے اجلے اجلے رہتے ہیں

    مآخذ :
    • کتاب : Hari Sonahri Khak (Ghazal) (Pg. 179)
    • Author : Mahir Abdul Hayee
    • مطبع : Bazme-e-Urdu,Mau (2008)
    • اشاعت : 2008

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY