اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

محسن نقوی

اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

محسن نقوی

MORE BY محسن نقوی

    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا

    اپنی کچی بستیوں کو بے نشاں ہونا ہی تھا

    کس کے بس میں تھا ہوا کی وحشتوں کو روکنا

    برگ گل کو خاک شعلے کو دھواں ہونا ہی تھا

    جب کوئی سمت سفر طے تھی نہ حد رہ گزر

    اے مرے رہ رو سفر تو رائیگاں ہونا ہی تھا

    مجھ کو رکنا تھا اسے جانا تھا اگلے موڑ تک

    فیصلہ یہ اس کے میرے درمیاں ہونا ہی تھا

    چاند کو چلنا تھا بہتی سیپیوں کے ساتھ ساتھ

    معجزہ یہ بھی تہہ آب رواں ہونا ہی تھا

    میں نئے چہروں پہ کہتا تھا نئی غزلیں سدا

    میری اس عادت سے اس کو بد گماں ہونا ہی تھا

    شہر سے باہر کی ویرانی بسانا تھی مجھے

    اپنی تنہائی پہ کچھ تو مہرباں ہونا ہی تھا

    اپنی آنکھیں دفن کرنا تھیں غبار خاک میں

    یہ ستم بھی ہم پہ زیر آسماں ہونا ہی تھا

    بے صدا بستی کی رسمیں تھیں یہی محسنؔ مرے

    میں زباں رکھتا تھا مجھ کو بے زباں ہونا ہی تھا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اب کے بارش میں تو یہ کار زیاں ہونا ہی تھا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites