اب خاک تو کیا ہے دل کو جلا جلا کر

جرأت قلندر بخش

اب خاک تو کیا ہے دل کو جلا جلا کر

جرأت قلندر بخش

MORE BYجرأت قلندر بخش

    اب خاک تو کیا ہے دل کو جلا جلا کر

    کرتے ہو اتنی باتیں کیوں تم بنا بنا کر

    عاشق کے گھر کی تم نے بنیاد کو بٹھایا

    غیروں کو پاس اپنے ہر دم بٹھا بٹھا کر

    یہ بھی کوئی ستم ہے یہ بھی کوئی کرم ہے

    غیروں پہ لطف کرنا ہم کو دکھا دکھا کر

    اے بت نہ مجھ کو ہرگز کوچے سے اب اٹھانا

    آیا ہوں یاں تلک میں ظالم خدا خدا کر

    دیتا ہوں میں ادھر جی اپنا تڑپ تڑپ کر

    دیکھے ہے وہ ادھر کو آنکھیں چرا چرا کر

    کوئی آشنا نہیں ہے ایسا کہ با وفا ہو

    کہتے ہو تم یہ باتیں ہم کو سنا سنا کر

    جلتا تھا سینہ میرا اے شمع تس پہ تو نے

    دونی لگائی آتش آنسو بہا بہا کر

    اک ہی نگاہ کر کر سینے سے لے گیا وہ

    ہر چند دل کو رکھا ہم نے چھپا چھپا کر

    جرأت نے آخر اپنے جی کو بھی اب گنوایا

    ان بے مروتوں سے دل کو لگا لگا کر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY