اب نہیں درد چھپانے کا قرینہ مجھ میں

بقا بلوچ

اب نہیں درد چھپانے کا قرینہ مجھ میں

بقا بلوچ

MORE BY بقا بلوچ

    اب نہیں درد چھپانے کا قرینہ مجھ میں

    کیا کروں بس گیا اک شخص انوکھا مجھ میں

    اس کی آنکھیں مجھے محصور کئے رکھتی ہیں

    وہ جو اک شخص ہے مدت سے صف آرا مجھ میں

    اپنی مٹی سے رہی ایسی رفاقت مجھ کو

    پھیلتا جاتا ہے اک ریت کا صحرا مجھ میں

    میرے چہرے پہ اگر کرب کے آثار نہیں

    یہ نہ سمجھو کہ نہیں کوئی تمنا مجھ میں

    میں کنارے پہ کھڑا ہوں تو کوئی بات نہیں

    بہتا رہتا ہے تری یاد کا دریا مجھ میں

    ڈوب تو جاؤں تری مدبھری آنکھوں میں مگر

    لڑکھڑانے کا نہیں حوصلہ اتنا مجھ میں

    جب سے اک شخص نے دیکھا ہے محبت سے بقاؔ

    پھیلتا جاتا ہے ہر روز اجالا مجھ میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY