اب تو مذہب کوئی ایسا بھی چلایا جائے

گوپال داس نیرج

اب تو مذہب کوئی ایسا بھی چلایا جائے

گوپال داس نیرج

MORE BY گوپال داس نیرج

    اب تو مذہب کوئی ایسا بھی چلایا جائے

    جس میں انسان کو انسان بنایا جائے

    جس کی خوشبو سے مہک جائے پڑوسی کا بھی گھر

    پھول اس قسم کا ہر سمت کھلایا جائے

    آگ بہتی ہے یہاں گنگا میں جھیلم میں بھی

    کوئی بتلائے کہاں جا کے نہایا جائے

    پیار کا خون ہوا کیوں یہ سمجھنے کے لیے

    ہر اندھیرے کو اجالے میں بلایا جائے

    میرے دکھ درد کا تجھ پر ہو اثر کچھ ایسا

    میں رہوں بھوکا تو تجھ سے بھی نہ کھایا جائے

    جسم دو ہو کے بھی دل ایک ہوں اپنے ایسے

    میرا آنسو تیری پلکوں سے اٹھایا جائے

    گیت انمن ہے غزل چپ ہے رباعی ہے دکھی

    ایسے ماحول میں نیرجؔ کو بلایا جائے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    Shubha Mudgal

    Shubha Mudgal

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites