اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی

احمد ندیم قاسمی

اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی

احمد ندیم قاسمی

MORE BY احمد ندیم قاسمی

    اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی

    کوئی پہچان ہی باقی نہیں ویرانوں کی

    اپنی پوشاک سے ہشیار کہ خدام قدیم

    دھجیاں مانگتے ہیں اپنے گریبانوں کی

    صنعتیں پھیلتی جاتی ہیں مگر اس کے ساتھ

    سرحدیں ٹوٹتی جاتی ہیں گلستانوں کی

    دل میں وہ زخم کھلے ہیں کہ چمن کیا شے ہے

    گھر میں بارات سی اتری ہوئی گل دانوں کی

    ان کو کیا فکر کہ میں پار لگا یا ڈوبا

    بحث کرتے رہے ساحل پہ جو طوفانوں کی

    تیری رحمت تو مسلم ہے مگر یہ تو بتا

    کون بجلی کو خبر دیتا ہے کاشانوں کی

    مقبرے بنتے ہیں زندوں کے مکانوں سے بلند

    کس قدر اوج پہ تکریم ہے انسانوں کی

    ایک اک یاد کے ہاتھوں پہ چراغوں بھرے طشت

    کعبۂ دل کی فضا ہے کہ صنم خانوں کی

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    اب تو شہروں سے خبر آتی ہے دیوانوں کی نعمان شوق

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites