اب تو تم بھی جواں ہوئے ہو دیکھیں گے دل کو بچاؤ گے تم

رضا عظیم آبادی

اب تو تم بھی جواں ہوئے ہو دیکھیں گے دل کو بچاؤ گے تم

رضا عظیم آبادی

MORE BYرضا عظیم آبادی

    اب تو تم بھی جواں ہوئے ہو دیکھیں گے دل کو بچاؤ گے تم

    مل جو گیا ہم چشم کوئی پھر آنکھ اسی سے لڑاؤ گے تم

    اب جو ہم تم سے کرتے ہیں تم بھی کسی سے کرو گے وہی

    ہم سے تمہارا سلوک ہے جیسا ویسا ہی بدلہ پاؤ گے تم

    بے تابی سے کرو گے کیا کیا نہ کئی کسی کی مجلس میں

    آؤ گے تم بیٹھو گے تم پھر آؤ گے تم اٹھ جاؤ گے تم

    رعشہ تھی زباں میں لکنت پاؤں بیڑی مہرا دیں گے

    منہ سے کچھ کا کچھ نکلے گا دل میں جو ٹھہراؤ گے تم

    وہ تو تمہاری سیکھ تمہیں سے بات میں بات نکالے گا

    میری صورت اپنا سا منہ تاک کے پھر رہ جاؤ گے تم

    نام کو دانہ دو دو دن تک میری طرح دیکھو گے نہیں

    جب میں بہت سمجھاؤں گا تو تھوڑا سا کھانا کھاؤ گے تم

    نئی نئی چوٹیں کھا کھا کر جب بے کل ہو ہو جاؤ گے

    مجھ کو ہم درد اپنا سمجھ کہنے کو غم کے آؤ گے تم

    ہر ہر بات میں رو رو کے گھبرا گھبرا کر بولو گے

    کیسے غریب غریب سے ہو کر دل کی باتیں سناؤ گے تم

    میرے حال پہ شعروں کے مضمون بہت یاد آئیں گے

    دس دس بار ایک ایک غزل کو مجھ سے پھر پڑھواؤ گے تم

    دل میں تم اپنے مت لانا جیتے رہے گر میر رضاؔ

    دے دل اس کا ہاتھ میں لے کے جیسے دل کو لگاؤ گے تم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY